Strict Standards: Non-static method Util::chkNumericInput() should not be called statically, assuming $this from incompatible context in /home/ubqari/httpdocs/ubqari2/core/Action/Article.php on line 36
Ubqari-- The Center for Peace and Spirituality
Strict Standards: Non-static method Util::getTitle() should not be called statically in /home/ubqari/httpdocs/ubqari2/lib/plugins/function.callback.php(24) : eval()'d code on line 1
فرقہ واریت اور رواداری(انوکھے بول،انمول سوچیں)-کنڈیارو درس 18 اکتوبر 2015ء (بذریعہ فون)   درس کیلئے کلک کریں

Strict Standards: Non-static method BizLogic_EditionController::getRecord() should not be called statically in /home/ubqari/httpdocs/ubqari2/lib/plugins/function.callback.php(24) : eval()'d code on line 1

Strict Standards: Non-static method Lib::formatDate() should not be called statically, assuming $this from incompatible context in /home/ubqari/httpdocs/ubqari2/core/BizLogic/Edition.php on line 47
مارچ 2012
Print Preview | Print
  نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج  

 


سب ہی چلے گئے....!


میں نے اپنی بھتیجی کو اولاد کی طرح سمجھا۔ مگر اب میں تنہا ہوں۔ ڈیپریشن کی مریضہ ہونے کی وجہ سے شوہر نے گھر چھوڑ دیا ہے۔ بچے بھی چلے گئے ہیں‘ بار بار بھائی کے گھر بھتیجی سے ملنے جاتی ہوں تو وہ لوگ مجھے اس سے ملنے نہیں دیتے‘ شوہر کا حکم بھی سخت ہے کہ میرے ہی بچے مجھ سے نہ ملیں۔ اس طرح میرے ذہن پر اور خراب اثر پڑتا ہے۔ میں بے ہوش ہوجاتی ہوں۔ اب صدمے برداشت کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ علاج بھی ہورہا ہے۔ (ا۔ر۔ کراچی)


مشورہ: ایک ماں کو بچوں سے ملنے نہ دینا تو ظلم ہے۔ آپ اپنے خاندان کے بڑوں سے ملیں اور انہیں بتائیں کہ بھائی اور شوہر نے بچوں کو جدا کردیا ہے۔ وہ آپ کو ان سے ملوانے کی کوئی صورت نکال سکتے ہیں۔ جس ڈاکٹر سے علاج ہورہا ہے ان سے بھی تذکرہ کریں کہ وہ آپ کے رشتہ داروں کو اپنے کلینک میں بلوا کر سمجھائیں کہ بیماری کی حالت میں آپ کو اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ بچے اور عزیزواقارب کے ساتھ رہیں یا ملاقات کرلیا کریں۔ آپ بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں۔


 


خوف کی جسمانی علامات بھی ہیں


مجھے بلند عمارتوں سے خوف آتا ہے۔ میرے والد کا آفس نویں منزل پر واقع ہے۔ میںوہاں چلا تو جاتا ہوں لیکن اگر کھڑکی سے نیچے دیکھتا ہوں تو چکر آنے لگتے ہیں۔ کہیں یہ میرا مستقل خوف مجھے مشکلات میں نہ ڈال دے۔ (فراز علی‘ اسلام آباد)


مشورہ:آپ نے بلند عمارتوں سے خوف آنے کا ذکر کرتے ہوئے صرف چکر آنے کی بات کی ہے جبکہ خوف کی جسمانی علامات میں دل کا تیزی سے دھڑکنا‘ سانس معمول سے زیادہ تیز ہوجانا‘ رونگٹے کھڑے ہونا‘ جلد زرد ہوجانا‘ پسینہ آنا‘ ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوجانا وغیرہ شامل ہیں۔ ضروری نہیں کہ خوف کی صورت میں یہ تمام علامات ہی ظاہر ہوں مگر چند ایک ظاہر ہوتی ہی ہیں۔ آپ کو بلندی سے نیچے دیکھتے ہوئے چکر آتے ہیں۔ ایسا اکثر ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہیں بار بار بلندی سے نیچے دیکھنے کا تجربہ نہ ہوا ہو جن لوگوں کے معمول میں یہ بات شامل ہوجاتی ہے ان کی نفسیاتی کیفیات بھی معمول کے مطابق رہتی ہیں۔


 


مجھے افسوس ہوتا ہے


میرے شوہر کاروبار کرتے ہیں کبھی بہت فائدہ اور کبھی نقصان ہوجاتا ہے۔ مجھے نقصان کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے اس لیے جب حالات اچھے ہوتے ہیں تب بھی فکر میں اخراجات کم کرتی ہوں۔ بچے پریشان ہوتے ہیں۔ مجھے خود بھی تکلیف رہتی ہے یہ صورت حال دیکھ کر شوہر نے گھر کا زیادہ انتظام خود سنبھال لیا ہے اس کا بھی مجھے افسوس ہوتا ہے۔ (امبر‘جڑانوالہ)


مشورہ: جب کاروبار میں فائدہ ہورہا ہو تو افسوس کی نہیں خوشی کی بات ہوتی ہے۔ شوہر گھر کا انتظام سنبھال لیں یہ بھی بری بات نہیں بلکہ آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ ذمہ داری کم ہوئی۔ بچت کرنی اچھی بات ہے لیکن اتنی نہیں کہ تکلیف سے گزرا کیا جائے اور ضروریات کی تکمیل کیلئے بھی رقم خرچ نہ کی جائے یا بہت ہی کم خرچ کیا جائے۔ مستقبل سے اچھی امید رکھتے ہوئے آج زندگی کا لطف اٹھائیں۔ آج جو نعمتیں حاصل ہیں ان پر شکر کریں‘ ہنستے مسکراتے ہوئے وقت گزارنا چاہیے اس طرح کہ ہمیشہ زندگی کے روشن پہلو پرنظر رہے۔


 


یکسوئی نہیں


میٹرک کا طالب علم ہوں کوئی کام یکسوئی سے نہیں کرپاتا۔ ذہن اِدھر اُدھر بھٹکتا رہتا ہے۔ خیال آتا ہے کہ کوئی دیکھ رہا ہوگا یا میں پاگلوں والا کام تو نہیں کررہا۔ غرض یہ کہ مجھے لگتا ہے میری کوئی شخصیت نہیں۔ کسی کو متاثر نہیں کرپاتا۔ کسی سے خلوص دل سے نہیں مل پاتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ میرے بارے میں غلط سوچ رہا ہے۔ قلبی اور ذہنی سکون حاصل نہیں ہورہا۔ عمر اٹھارہ سال ہے۔ (آصف‘ ملتان)


مشورہ: ذہن بھٹکنے کی شکایت اکثر طالب علموں کو ہوتی ہے۔ اس کا سبب ذہنی یکسوئی کی کمی ہے۔ ایک حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں وہ یہ کہ لوگوں کو آپ سے زیادہ اپنی پروا ہے اپنا احساس ہے اور آپ پاگل نہیں بلکہ ایک نارمل طالب علم ہیں تو کیوں کوئی آپ کو غلط سمجھے گا؟ لوگوں کے حوالے سے منفی سوچ کو اپنے ذہن سے نکال دیں گے تو بہت حد تک ذہنی سکون حاصل ہوجائے گا۔


 


اس کا خیال ذہن سے نہیں جاتا


گھر والے میری شادی پھوپی کی بیٹی سے کرنا چاہتے ہیں جو نیک سیرت‘ خوبصورت‘ حافظہ اور عالمہ بن رہی ہے۔ مجھ سے پردہ بھی کرتی ہے بچپن میں ملاقات ہوئی تھی۔ مجھے اس سے دلچسپی نہیں لیکن اس کے مذہبی رجحان سے متاثر ہوکر شادی کرنا چاہتا ہوں۔ آٹھ سال پہلے ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔ میں نے لڑکی سے کبھی اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا کہ کہیں وہ بدنام نہ ہوجائے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ میں اس سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ روزگار کی خاطر گھر سے بہت دور ہوں‘ یہاں بھی اس کا خیال ذہن سے نہیں جاتا۔ (ج۔حیات‘ اسلام آباد)


مشورہ: فی الحال تو دونوں میں سے کسی بھی لڑکی سے ملاقات نہیں ہورہی جس سے شادی ہونے والی ہے جب اس کا خیال ذہن میں جگہ بنالے گا تو آپ اپنی پرانی محبت کو بھول جائیں گے۔ یہ اچھی بات ہے کہ والدین نے ایک نیک سیرت اور دین دار لڑکی کو آپ کیلئے پسند کیا اور آپ کو بھی وہ متاثر کرگئی۔ خوشیاں تو آپ کی منتظر ہیں۔ مضبوط قوت ارادی سے کام لے کر ذہن میں آنے والے ہر اس خیال کو جھٹک دیں جس کانہ کوئی آغاز تھا نہ انجام ہے۔

June 3, 2024

سنیے عبقری

لایو براڈکاسٹ
براڈکاسٹ شیڈول

درس روحانیت و امن
تسبیح خانے سے براہ راست ہر جمعرات بعد نماز مغرب
(GMT +05.00)

Strict Standards: Non-static method BizLogic_EditionController::getDefault() should not be called statically in /home/ubqari/httpdocs/ubqari2/lib/plugins/function.callback.php(24) : eval()'d code on line 1

Strict Standards: Non-static method Lib::formatDate() should not be called statically, assuming $this from incompatible context in /home/ubqari/httpdocs/ubqari2/core/BizLogic/Edition.php on line 47
اہم اعلانات