Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

بچے کا بے جاخوف اور اس کا علاج!

ماہنامہ عبقری - جون 2020

چمگاڈر اور چھپکلی عام گھریلو بے ضرر جانور ہیں اور ہماری اکثر گھریلو خواتین اسے دیکھتے ہی خوف زدہ ہوکر چیخنا شروع کردیتی ہیں۔ خواتین کو اپنے اس خوف کا اظہار اپنے بچوں کے سامنے نہیں کرنا چاہیے۔ اس بچے میں اندھیرے کا ڈر بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر بچہ اندھیرے میں سورہا ہے۔ آپ نے اچانک کوئی دھاڑ یا خوف ناک چیخ سے اندھیرے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور وہ ساری عمر اندھیروں سے ڈرتا رہتا ہے۔
بے جا خوف اور ان کا علاج:آپ کا بچہ اگر آوازوں سے خوف زدہ ہے تو بچے کے سونے اور کھیلنے کی جگہوں کو ڈرائونی آوازوں کی زد سے حتیٰ الوسع محفوظ رکھنا چاہیے۔ آندھی چلنے سے پہلے دروازے اور کھڑکیاںبند کردینی چاہیں۔ تاکہ کواڑ بجنے سے شور پیدا نہ ہو اور ڈر، خوف بچوں کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ ممکن ہے اسی ڈرائونے شور ہی کی وجہ سے بچے آندھی سے بھی خوف کھانے لگیں۔ بچے سو رہے ہوں۔ تو ان کے نزدیک شوروغل نہیں کرنا چاہیے۔ بچوں میں خوف کے تدارک کے لیے جسمانی سزائوں کے اصول کو ترک کردینا چاہیے۔ مارپیٹ اور ڈانٹ کا بہت کم استعمال ہونا چاہیے۔بچوں کو جن ، بھوت، ڈائن، چڑیل اور بابا وغیرہ کی تو کبھی دھمکیاں نہیں دینی چاہیں کیونکہ اس سے ان میں خوف کے علاوہ توہمانہ خیالات کے پیدا ہوجانے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔بلی یا خرگوش جیسے بے ضرر جانوروں سے خوف کھانے والے بچے کا مذاق مت اڑائیے۔ بلکہ اسے ایسی کہانیاں سنائیے جس سے بچہ بلی یا خرگوش سے خوف کھانے کی بجائے ان سے کھیلنے کی خواہش کرنے لگے۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچہ جب کھانا کھا رہا ہو یا کسی ایسے ہی پر لطف شغل میں مشغول ہوتو اس سے بہت فاصلے پر گھریلوبلی یا خرگوش کو رسی سے باندھ دیں۔ پھر ہم روز بلی یا خرگوش کو بتدریج بچے کے نزدیک لاتے جائیں اور جس دن وہ ذرا بھی خوف ظاہر کرے جانور کو پھر پیچھے لے جائیں۔ کھانے کی لذت میں محویت سے اور کچھ اس خیال سے کہ دشمن بندھا ہوا ہے۔ بچے میں گھریلو جانور سے خوف کی ابتدائی شدت کم ہو جاتی ہے۔ آپ بدستور بچے اور جانور کا درمیانی فاصلہ کم کرتے جائیں۔ جب یہ دیکھیںکہ جانور قریب باندھنے سے بچے نے ڈرنا بند کردیا ہے تو جانور کو کھول دیں۔ اور خود اسے پیار کرنا شروع کردیں۔ آہستہ آہستہ بچہ بھی مانوس ہوتا جائے گا۔ اسی طرح کی تدریجی تربیت سے کئی قسم کے دوسرے خوف بھی مٹائے جاسکتے ہیں۔ مگر اپنی ناقص نگہداشت اور غیر سائنسی تربیت سے بچوں میں طرح طرح کے خوف پیدا کر دینے کے بعد پھر انہیں دور کرنے کے طریقوں کے بارے میں سوچ بچار کرنا کوئی دانش مندی کی بات نہیں ہوتی
بہتر یہی ہے کہ آپ شروع ہی سے خوف پیدا کرنے والے اسباب اور موقعوں کو اپنے بچوں کی زندگی سے حتیٰ الوسع دور رکھیں۔ خوف کی مناسب روک تھام علاج سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہے۔خوف اور بیماریاں:بچپن کے خوف بالغ زندگی میں دیوانگی کی صورت میں بھی نمودار ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک مریض کو تنگ جگہوں سے بہت خوف آتا تھا۔ مریض کی تاریخ مرتب کرنے سے پتہ چلا کہ بچپن میں ایک دفعہ جب یہ شخص کسی دکان سے لوٹ رہا تھا تو محلے کی تنگ و تاریک گلی میں ایک کتا اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ اور اس قدر زور زور سے بھونکنے لگا کہ بچے کا مارے خوف کے برا حال ہوگیا۔ وہ بڑی مشکل سے بھاگ کر گھر پہنچا۔ رفتہ رفتہ کتے سے اس کا خوف تنگ گلی کی طرف منتقل ہوتا گیا۔ اور ایک وقت آیا کہ وہ ہر تنگ مقام سے خوف محسوس کرنے لگا ہے۔اسی طرح ایک اور مریض بھی سامنے آیا۔ جسے اپنی گردن بار بار ایک طرف موڑنے کی اس قدر پختہ عادت پڑچکی تھی کہ وہ خود بھی اس سے عاجز تھا۔ مرض کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ بچپن میں وہ شخص بازار میں آتے جاتے ایک میوہ فروش کے مونگ پھلی کے ڈھیر سے چپکے سے مٹھی بھر لیا کرتا تھا۔ میوہ فروش اس موقع کی تلاش میں رہنے لگا کہ کسی روز اس شریر چور کو موقع پر پکڑے۔ چنانچہ ایک دن وہ ایک بوری کے پیچھے تاک لگا کر بیٹھ گیا۔ جونہی بچے نے مونگ پھلیاں اٹھائیں۔ میوہ فروش نے جھٹ سے اس کی گردن دبوچ لی۔ بچہ یوں اچانک پکڑے جانے کے صدمہ سے بے ہوش ہوکر گرگیا۔ اس واقعہ کے بعد اسے بار بار ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی اسے گردن سے پکڑ رہا ہو۔ دن میں اسے یہ خیال سینکڑوں بار آتا اور وہ سینکڑوں بار اپنے خیال پکڑنے والے سے بچنے کے لیے گردن کو ایک طرف جھٹکا دے دیتا۔ گردن کو یوں ایک طرف جھٹکتے رہنے کی اس تکلیف دہ عادت سے وہ بہت تنگ آیا ہوا تھا۔ مگر جب اسے نفسیاتی طریقوں سے بچپن کا وہ واقعہ یاد دلایا گیا اور اس واقعہ کو بھول جانے کی رغبت دلائی گئی تو ٹھیک ہوگیا۔ ان دو واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد ذہنی الجھنوں اور بیماریوں کی بنیاد یں بچپن کے ان خوف ناک حادثوں پر رکھی ہوتی ہیں۔ جنہیں ابتداء میں اچھی طرح سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے بجائے بہت سختی سے ذہن میں دبادیا جاتا ہے اور یہ ضبط شدہ واقعات انجام کار ہماری جذباتی زندگیوں کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔

Ubqari Magazine Rated 4.0 / 5 based on 085 reviews.