Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

اصیل مرغ کی بددعا!امیر سے فقیر اور اندھا ہوگیا

ماہنامہ عبقری - جولائی 2021ء

(محمد طاہر صدیق ،لاہور)

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! تسبیح خانہ اور عبقری رسالہ سے گزشتہ 12 سال پرانا تعلق ہے‘ یہاں سے اتنا ملا‘ اتنا پایا کہ نہ بیاں ہوسکتا ہے اور نہ میرے قلم میں اتنی طاقت ‘ نہ میرے ہاتھوں میں اتنی قوت کہ وہ لکھ سکے۔ آج عبقری قارئین کیلئے ایک آنکھوں دیکھا واقعہ لے کر حاضر ہوا ہوں‘ بے شک احسان کا بدلہ احسان ہے‘ یہ قدرتی امر ہے کہ اگر انسان کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے تو اس کے ساتھ بھلائی ہوتی ہے اور یہ بھلائی اس کے ساتھ نہیں اللہ کریم اس کی نسلوں کو بھی بھلائیاں عطا فرماتا ہے اور ہاں خدا کے ہاں ایک نظام اور بھی ہے اور اسے ’’مکافات عمل‘‘ کہتے ہیں‘ اگر کسی کے ساتھ بُرائی کی جائے تو رب اس بُرائی کا بُرا اجر بھی دیتا ہے اور بعض اوقات یہ بُرااجر اس کے ساتھ ہی نہیں اس کی نسلوں کو بھی یہ سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ یہ فقرہ بچپن میں نصاب کی کتب میں پڑھا اس وقت سمجھ نہ آئی مگر جب معاشرہ میں بکھرے واقعات کو دیکھا‘ سمجھا ‘پرکھا تو پھر سمجھ آئی کہ واقعی جیسا کریں گے ویسا ہی آپ کے ساتھ ہوگا‘ ضروری نہیں ہے کہ آپ کسی انسان کےساتھ بُرا کریں تو تب ہی آپ کے ساتھ بُرا ہوگا بلکہ مخلوق خدا میں کسی کے ساتھ بھی ظلم ہو چاہے وہ جانور ہو‘ چرند ہو‘ پرند ہو یا کیڑے مکوڑے ہوں‘ ظلم آخر ظلم اور ظلم کا بدلہ دیا جاتا ہے۔ بات لمبی ہوگئی واپس واقعہ کی طرف آتا ہوں:۔
میرے بھائی کی سپیئر پارٹس کی دوکان ہے‘ میں نوکری سے سیدھا بھائی کی دوکان پرجاتا اور رات تک وہیں رہتا۔ وہاں اکثر لوگ سپیئر پارٹس لینے آتے‘ وہاں ایک سرکاری ملازم آتا تو اس کی گاڑی میں اصیل مرغ ہوتے‘ میری بھی ان سے علیک سلیک ہوگئی‘ میں نے ان سے پوچھا کہ جناب! آپ کی گاڑی میں اکثر مرغ ہوتے ہیں یہ کیا کہانی ہے؟
مسکرا کر اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہنے لگے: جناب لوگوں کے سرکاری ’’کام‘‘ ہوتے ہیں‘ میں اکثر ’’کام‘‘ کے بدلے میں ان سے انعام ’’اصیل مرغ‘‘ کے نام پر لیتا ہوں۔ یہ مرغ کوئی سستے نہیں ہوتے‘ نسلی اور بیش قیمتی ہیں‘ مجھے مرغ لڑانے کا شوق ہے۔ میں بڑا حیران ہوا کہ اعلیٰ عہدے پر فائز شخص اور شوق کیسا؟
میں نے تجسس اور حیرانی کے انداز میں پوچھا کہ آپ کے اکثر مرغوں کی آنکھوں پر پٹی چڑھی ہوتی ہے اس کا کیا مطلب؟ کہنے لگے: لڑائی کے دوران اکثر مرغ اندھے ہوجاتے ہیں‘ پھر میں ان کی کڑاہی بنوا لیتا ہوں۔ خیر وقت گزرتا گیا‘ سال سے ڈیڑھ سال بعد وہ بندہ ریٹائرڈ ہوگیا‘ اس نے شہر کی بڑی مارکیٹ میں بیٹے کو کپڑے کی دوکان ڈلوا کر دی‘ بیٹے نے وہ ساری دوکان دو سال کے اندر اجاڑ دی۔ دوکان ختم ہوئی‘ سرمایہ ختم ہوا مگر مرغ لڑانےکا شوق نہ کم ہوا نہ ختم ہوا۔
ابھی ایک سال پہلے مجھے اس شخص کا بیٹا ملا‘ انتہائی خستہ حال‘ اس کی حالت اس کے حالات بتارہی تھی۔ میں نے والد کا پوچھا تو اس نے ایک بات بتائی جس نے مجھے جھنجھوڑ کررکھ دیا‘ میری آنکھوں کے سامنےوہ اندھے اصیل مرغ آگئے۔ جنہیں پہلے بے دردی سے لڑوایا جاتا تھا جو ہار جاتا اور اندھا ہوجاتا تھا اس کی کڑاہی بنوا کر محفلوں میں اڑائی جاتی تھی۔ اس کے بیٹے نے بتایا کہ میرے والد اچانک دونوں آنکھوں سےاندھے ہوگئے ہیں‘ اب سارا دن گھر میں ہی رہتے ہیں۔
قارئین! بے شک مظلوم کی بددعا لگتی ہے‘ شیخ الوظائف اکثر فرماتے ہیں کہ مظلوم اور رب کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘ مظلوم کی دعا ہو یا بددعا سیدھا عرش پر جاتی ہے اور قبولیت کی مہر لگوا کر ہی واپس آتی ہے۔ یہ شرط نہیں کہ مظلوم انسان ہے‘ پرندہ ہے یا کوئی اور مخلوق! مظلوم صرف مظلوم ہوتا ہے اور اس کی آہ نسلیں اجاڑ دیتی ہے۔ اگر کسی قاری کو ایسا شوق ہے تو خدارا باز آجائیے‘ پرندے رکھیے‘ پالیے‘ ان کے لاڈ اٹھائیے مگر ان پر ظلم ہرگز نہ کیجئے۔

 

Ubqari Magazine Rated 4.0 / 5 based on 774 reviews.