Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

جنات کا پیدائشی دوست

ماہنامہ عبقری - اپریل 2015ء

بوڑھا عالم جن اور روح کی حقیقت:ایک بار میں باورچی جن‘ عبدالسلام جن‘ صحابی ؓبابا اور بڑے بڑے علماء جنات بیٹھے کسی موضوع پر آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ گفتگو کرتے کرتے ہمارا موضوع ارواح کی طرف چل نکلا۔ ارواح کی حقیقت ہے اور ویسے بھی اس وقت سائنس ارواح کی دنیا پر بہت زیادہ ریسرچ کررہی ہے۔وہاں موجود ایک جن جو بہت بڑا عالم تھا اور انڈیا کے ایک بہت بڑے دارالعلوم سے فارغ التحصیل تھا۔ مجھے کہنے لگا اگرا ٓپ پوچھیں تو ایک بات بتاؤں ؟ارواح سچ بولتی ہیں اور سچی باتیں بتاتی ہیں اور سچ کی دنیا کی طرف رہنمائی کرتی ہیں ارواح کی حقیقت سچ ہے اور کبھی بھی ارواح غلط رہنمائی اور غلط گائیڈ نہیں کرتیں۔
اولیاء کےخدمت گزار عالم جن کے انکشافات: وہ عالم بہت بوڑھے تھے۔ کہنے لگے: میں نے برصغیر کے بڑے بڑے اکابر علماء محدثین کو دیکھا ۔میں نے سوال کیا آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ کو دیکھا؟مسکرا کر کہنے لگے ضرور دیکھا اور بہت قریب سے دیکھا میں نے ان کی خدمت کی ہے ان کی جوتیاں سیدھی کی ہیں‘ ان کے پاؤں دبائے ہیں‘ ان کے سر کی مالش کی ہے‘ ان کے کپڑے دھوئے ہیں‘ ان کے گھرکی چارپائیاں بچھائی ہیں‘جھاڑو دئیے ہیں اور دوسرے کام اور ان چیزوں کی خدمت میرے ذمے رہی‘ میں آپ کو ان کےفائدے بتاؤں تو آپ حیران ہوجائیں۔۔۔۔شاہ ولی اللہکے والد کی خدمت اورفیض:اس عالم جن نے اپنا نام ہدایت اللہ بتایا۔ جنہیں میں اب مولانا ہدایت اللہ کہوں گا۔ مولانا مزید بتانے لگے کہ میں سالہا سال حضرت شاہ ولی اللہکے والد صاحب کی خدمت پر رہا‘ میں نے ان کی بہت خدمت کی اور ان سے بہت فیض پایا ۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے روح کی دنیا پر محنت کی اور روحانی دنیا کے وہ وہ کمالات ان کےپاس موجود تھے جو آپ گمان نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ اویس قرنی سے ملاقات :ایک دفعہ بیٹھے بیٹھے شاہ ولی اللہ کے والد صاحب  نےاپنے بیٹے کو بلایا۔ فرمایا: ولی اللہ() آؤ! تمہیں میں حضرت خواجہ اویس قرنیسے ملاقات کرواتا ہوں۔ اپنی شہادت کی انگلی ان کے عین سر پر رکھی سر پر رکھ کر فرمانے لگے: آنکھیں بند کرو‘ جب شاہ ولی اللہ نے آنکھیں بند کیں تو تھوڑی دیر کے بعد ان کی سانس پھولنا شروع ہوگئی‘ آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہوگیا‘ چہرے کےرخسار سرخ ہوگئے‘ جسم کانپنا شروع ہوگیا اور پورے جسم میں لرزہ تھا اور تھوڑی دیر کے بعد یہ کیفیت بڑھنا شروع ہوگئی‘ سسکیاں لے کر انہوں نےر ونا شروع کردیا‘ تھوڑی دیر کے بعد سسکیاںہائے ہائے میں بدل گئی لیکن شاہ ولی اللہکے والد شاہ عبدالرحیم صاحبمسلسل اپنی انگلی رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ انگلی نہیں ہٹا رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا اگر آپ نے یہ انگلی نہ ہٹائی تو خدانخواستہ شاہ ولی اللہ کی جان ہی نہ نکل جائے۔ آخر میں نے عرض کیا: حضرت شاید ابھی اس بندےکے اندر آپ کو اتنی جان اور ڈالنی ہوگی تو پھر جاکر اس انگلی کا وہ بوجھ برداشت کرسکے گا تو والد مسکرائے‘ انگلی ہٹائی‘ انگلی ہٹاتے ہی حضرت شاہ ولی اللہ نیچے گرگئے۔ بہت دیر بیہوش رہے‘ والد نے ان کو ہوش میں لانے کوئی تگ ودو نہ کی کوئی تین چار گھنٹوں کے بعد ہوش میں آئے‘ اٹھ کر وضو کیا وضو کرنے کے بعد دو نفل پڑھ کر والد صاحب کے سامنے ادب سے بیٹھے تو والد کاغذ پر کچھ لکھ رہے تھے پوچھا بیٹا کیا دیکھا؟ایک انگلی سے ساری کائنات روشن:تو عرض کرنے لگے جس وقت آپ نے انگلی میرے سر پر رکھی کائنات کےسارے طبق مجھ پر روشن ہوگئے‘ زمین شیشے کی طرح بن گئی اور زمین کےاندر کےتمام حشرات‘ بچھو‘ بلائیں‘ خزانے‘ دولت‘ ہیرے‘ سونا اور جواہرات میری آنکھوں کے سامنے آگئے۔ ہر چیز مجھ پر واضح ہوگئی اور آسمان کے اوپر کا نظام فرشتے ان کی عبادت ان کا ذکر حتیٰ کہ عرش کے ذکر کی آوازیں مجھ تک پہنچنا شروع ہوگئیں۔ میں نےجنات آنکھوں سے دیکھے‘ چاند کے اندر‘ سیاروں کے اندر‘ ستاروں کے اندر کی مخلوقات میری آنکھوں کے سامنے آئی‘ ایسی مخلوقات جن کا تذکرہ نہ کتابوں میں پڑھا نہ سوچا نہ آج تک میں نے کہیں تذکرہ سنا وہ میرے سامنے آئے۔تخت نشین اویس قرنی کو دیکھا:یہ ساری کائنات جب میرے سامنے آئی تو میں نے ایک تخت پر ایک صاحب کو بیٹھا ہوا دیکھا‘ انہوں نے مجھے اپنے سینے سےلگایا جب انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا‘ میرے روئے روئے انگ انگ میں روشنی اور نور بھر گیااور وہ نور میری پیشانی کی جگہ سے جہاں آپ نے انگلی رکھی ہوئی تھی ایسے نکلنے لگا جیسے کہ پہاڑوں سے لاوا اور وہ پورے عالم میں پھیلنے لگا ‘وہ ہستی بہت دیر تک اپنے سینے سے مجھے لگائے بیٹھی رہی جب اس نے مجھے سینے سے جدا کیا تو میں نےادب سے عرض کیا۔ آپ کا نام؟ فرمانےلگے: میرے نام اویس() ہے جس کا تذکرہ تم سنتےہو۔ میں گھبرا گیا میں ان کے قدموں میں نیچے بیٹھ گیا‘ میں نے ان کے پاؤں دبانا شروع کردئیے وہ باتوں کے موتی بکھیرتے جارہے تھے اور میں سنتا جارہا
تھا‘ بہت دیر تک میں ان کےپاس بیٹھا رہا مجھ سے فرمانے لگے تو جس شخص کا بیٹا ہے‘ایک وقت آئے گا تجھے لوگ بہت زیادہ جانیں گے‘ تجھے اپنے والد سے زیادہ شہرت ملےگی اور تیری شہرت کی روشنی سارے عالم میں قیامت تک پھیلے گی۔ لوگ تجھ سے نفع حاصل کریں گے تجھے اللہ خوشیاں‘ عزتیں‘ شان و شوکت اور ایسے بیٹوں سے نوازے گا جو بیٹے قوموں کی تقدیریں بدل دیں گے تو روضہ اطہرﷺ پر جائے گا اور حضورﷺ سے جاکر ملاقاتیں اور باتیں کرے گا جیسے اس وقت تو اور میں کررہے ہیں اور ان باتوں کے ذریعے سے علم ملے گا‘ نور ملے گا‘ روشنی ملے گی‘ معرفت ملے گی‘ برکت ملے گی اور یہ نعمتیں تمام تو اپنے پاس نہیں رکھے گا بلکہ تو رہتی دنیا تک اس کو پھیلائے گا۔میرا انگ انگ لرز رہا تھا: اور عجیب و غریب باتیں جو حضرت خواجہ اویس قرنی  نے مجھے بتائیں۔ میرا رواں رواں‘ انگ انگ لرز رہا تھا اور میں اسی لرزے میں حیرت انگیز کیفیات میں مبتلا تھا بس جب آپ نے انگلی ہٹائی تو ساری کائنات لوٹ گئی۔ واپس اسی دنیامیں لوٹ آیا اس کے بعد مجھ میں سکت نہ رہی‘ شاید میں بیہوش ہوکرگرگیا۔ اب باوضوہو کر آپ کے سامنے آیا ہوں۔ابھی تو کائنات کا ایک ذرہ بھی نہیں کُھلا:حضرت شاہ ولی اللہ کے والد یہ باتیں سن کر ہلکے سے مسکرائے اور بیٹے کےسر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگے کہ بیٹا ابھی تو ہم نے تیرے سامنے کائنات کا ایک حصہ بھی نہیں کھولا بلکہ ایک ذرہ بھی نہیں کھولا جو کائنات کا ذرہ اور حصہ اللہ نے تیرے باپ کو عطا کیا ہے‘ وہ میں بیٹا تمہیں بتا ہی نہیں سکتا۔ لیکن اگر تمہارے باپ کو اللہ نے زندگی دی اور جو مجھے اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے کائنات کے رازوں میں سے کچھ راز عطا کیے ہیں وہ میں ضرور تمہیں دوں گا۔
مولانا جن مزید کہنے لگے کہ میں نے ایک علم حضرت شاہ ولی اللہ کے والد صاحب سے سیکھا تھا وہ علم ارواح سے ملاقات کرنےکا تھا۔ چونکہ مجھے حدیث سے بہت دلچسپی ہے اور میں حدیث کے راویوں سے براہ راست ملاقات کرنا چاہتا تھا۔تو اس لیے میرے جی میں تھا کہ میں وہ عمل سیکھوں جس عمل سے میں بالمشافہ راویوں سے ملاقات کروں۔
ایک دفعہ میں حضرت شاہ ولی اللہ  کے والد صاحب سے عرض کربیٹھا کہ اگر اپنی شفقت سے مجھے ایسا عمل عنایت فرمائیں جس سےمیں راویوں سے ملاقات کروں تو احسان عظیم ہوگا۔ فرمانےلگے :خوشی کی بات ہے اگر ایسا ہوجائے تو مجھے اس پر کوئی ا عتراض نہیں۔تو فرمانے لگے اچھا ایسا کرنا جس وقت ہم تہجد اور نفل سے فارغ ہوں اور پھر بیٹھ کر ہم ذکر کریں تو ہمارے پیچھے آکر صرف بیٹھ جانا چند دن ایسا کرنا بہت فائدہ ہوگا۔چند راتیں اور ہستیوں کا دیدار:میں نے حسب حکم ایسا کیا جب میں آکر حضرت کے پیچھے بیٹھ گیا تو مجھے کچھ محسوس نہ ہوا۔ کئی گھنٹے ذکر اعمال اورمراقبہ کرتے رہے۔ پہلی رات‘ دوسری رات‘ ساتویں رات‘ آٹھویں رات‘ گیارہویں رات میں نے محسوس کیا کہ حضرت اکیلے نہیں ہیں حضرت کے اردگرد بہت سے اور لوگوں کا ہجوم ہے جو حضرت کو گھیرےہوئے ہیںجو ذکرو  اعمال اور تسبیح میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ چند راتوں کے بعد پھر مجھے ان ہستیوں کے چہرے واضح ہونا شروع ہوگئے اور میں ان کے چہرے محسوس کررہا تھا۔ کیسے نورانی بابرکت ان کےچہرے اور کیسی بابرکت ان کی آنکھیں اور ہر آنکھ سے کیا نور نکل رہا۔ میں مسلسل شیخ کے پیچھے بیٹھتا رہا پھر چند دنوں کے بعدہر چہرے کا نام مجھ پر واضح ہونا شروع ہوگیا کہ میں حیران ہوا کہ یہ تو وہ ہستیاں ہیں جو سلسلہ نقشبندیہ‘ قادری‘ چشتی‘ سہروردی اور بڑے بڑے سلسلوں کے یہ کامل درویش ہیں تو معلوم ہوا کہ شیخ جب بھی بیٹھتے ہیں اکیلے نہیں بیٹھتے باجماعت اور وہ درویش سینکڑوں کی تعداد میں ان کے اردگرد بیٹھے تھے ہر درویش وہی ذکر کرتا تھا جو حضرت شاہ صاحب کرتے تھے۔اکیس دن کے بعد کے حیران کن واقعات:میں حیران ہوا ٹھیک اکیس دن کے بعد حضرت شاہ صاحب نے مجھ سے پوچھا: مولانا بتائیں کیا دیکھا؟میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے‘ میں نے حضرت شاہ صاحب سے عرض کیا میں نےجو دیکھا وہ میرے گمان اور خیال سے باہر ہے توحضرت نے فرمایا یہ وہ سارے علماء اور محدثین ہیں جن سے آپ ملاقات کرنا چاہتےہیں۔ یہ وہ سارے صالحین درویش اور بزرگ ہیں جو سارے سلاسل کے بڑےبڑے امام ہیں اور جن کی وجہ سے سلاسل کی تکمیل ہوتی ہے ان میں امام بخاری بھی تھے‘ امام ترمذی بھی تھے‘ علامہ ابن کثیر بھی تھے احادیث اور تفاسیر کے بڑے بڑےفقیہہ اور مجتہد تھے۔ اب آپ نے سب سے ملاقات کرلی اب میرے پیچھے  اکیس دن اوربیٹھے رہو اور آئندہ جس وقت چاہو گے ان میں سے ہر ایک سے کسی بھی وقت انفرادی ملاقات کرسکو گے۔ انفرادی ان سے استفادہ اور فیض لے سکو گے۔
ہر رات ایک عجیب منظر:میں ہر رات بیٹھتا رہا‘ ہر رات میں نے عجیب منظر دیکھا اور میرے سامنے منظر پر منظر کھلتا چلا گیا۔ مولانا جن جب مجھے یہ باتیں بتارہے تھے تو سارے حضرات ان کی باتوں کو بہت غور سے سن رہا تھا اور میں خود ٹکٹکی باندھ کر انہیں دیکھ رہا تھا اور باتین سن رہا تھا۔ حاجی صاحب نے درمیان میں بات کی کہ دیکھو مولانا ہمیںباتیں تفصیل سے بتانا ان باتوں کو مختصر نہ کرنا‘ یہ باتیں وہ ہیںجن میں ہماری دلچسپیاں اور ارواح کے واقعات میں بہت دلچسپی ہے۔ انہی باتوںمیں اٹکے ہوئے صحابی بابا بہت باکمال ہیں اور ان کے سامنے یہ کائنات کھلی ہوئی ہےاور مولانا کو اصرار کیا کہ آپ ہمیں حضرت شاہ ولی اللہ  ان کے والد  اور ان کےخاندان کے روحانی اور لاہوتی‘ ملکوتی‘ جبروتی حالات آسمانی اور زمینی ضرور بتائیں گے چونکہ مولانا سالہا سال سے خاندان حضرت شاہ ولی اللہ کے ساتھ رہے تھے اس لیے انہوں نے انشاء اللہ کہا اور انشاء اللہ کہہ کر اپنی بات کو مزید جاری رکھا۔
کہنے لگے کہ میں ہررات ان کے انوکھے راز اور انوکھی زندگی دیکھتا رہا۔مجھ پر کوئی رات ایسی نہیں تھی کہ کوئی نہ کوئی سچا راز سچی دنیا اور کسی نہ کسی مخلوق سے میری ملاقات نہ ہوئی ہو۔
انوکھی دنیا‘ انوکھے لوگ‘ انوکھی زبان:جب میری بیٹھنے کی پچیسویں رات تھی اور میں شیخ کے پیچھے تہجد کی گھڑیوں میں بس خاموشی سے مراقب تھا تو میں نےدیکھا کہ میں یہاں سے اٹھا ہوں اور ایک انوکھی دنیا میں چلا گیا ہوں۔ وہ انوکھی دنیا‘ نہ انسانوں‘ نہ جنات‘ نہ فرشتوں کی ہے بلکہ کوئی ا ور مخلوق ہے ان کے جسم بھی اور ہیں ان کے برتن بھی انوکھے‘ ان کا لباس بھی عجیب ‘ان کی زبان مجھے سمجھ نہیں آتی‘ وہ بولی میں نے آج تک دنیا میں کہیں نہیں سنی‘ میں بس وہاں پھررہا ہوں‘ ان کا رہن سہن ان کا طرز زندگی ان کا اٹھنا بیٹھنا انوکھا تھا۔ لیکن ایک بات مجھے ان کی سمجھ آتی تھی جب کوئی لفظ اللہ پکارتے تھے بس اللہ سے محسوس ہوتا تھا کہ یہ اللہ کے ماننے والے تھے بس باتوں باتوں میں وہ محمدﷺ پکارتے تھے مجھے محسوس ہوتا تھا کہ یہ محمد ﷺ کے امتی ہیں بس یہ دو چیزیں مجھے محسوس ہورہی تھیں کہ اسلام ایمان والے تھے‘ میں انوکھی دنیا میں پھر رہا تھا۔ پھرتے پھرتے مجھے بھوک لگی ایک جگہ دسترخوان لگا وہ کھانے انوکھے جو میری سمجھ میں نہ آئے لیکن بھوک نے بے تاب کیا اور بھوک سے پریشان ہوا اور پھر میں نے ان کھانوں کی طرف ہاتھ بڑھایا جب ہاتھ بڑھایا پہلے لقمے میں وہ لذت تھی کہ میں دنیا کےکھانوں کی لذت بھول گیا تھا وہ لذت کیا تھی وہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔(جاری ہے)

Ubqari Magazine Rated 5 / 5 based on 599 reviews.