Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

جنات کا پیدائشی دوست Part6

ماہنامہ عبقری - اگست 2016ء

 فوقانی ثانی بوڑھی سائل کے روپ میں:پھر خیال آیا کہ کیوں نہ میں ایک فقیراور سائل بن کر اس بیوہ کے سامنے جاؤں اور اس بیوہ کا غم سنوں‘ بس یہ خیال آتے ہی اچانک میں نے فقیر سائل بوڑھی عورت کا روپ دھارا اور میں نے اس کے گھر باہر صدا لگائی غریب ہے جو دے دے کوئی ایسا ہے جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو اور اس کے شوہر کی یادیں آرہی ہوں تو میں اس کیلئے دعا کردوں بس شوہر کا نام سنتے ہی اور اپنے آنچل سنبھالتی ہوئی دروازے کے قریب آئی۔ اس نے دروازے کے اندر سے اندر مجھے بلالیا او رکہنے لگی اماں! تم کیا چاہتی ہو؟ میں بھوکی ہوں مجھے کھانا کھلادو‘ پیاسی ہوں پانی پلا دو اگر پرانا کپڑا ہو تو وہ دے دو اگر کچھ بھی نہ ہوں تو مجھے کوئی مطالبہ نہیں۔ پھر میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہنی لگی بیٹی میں محسوس کررہی ہوں تم بہت پریشان ہو بس میرا یہ کہنا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی کہنے لگی اصل میں میں بیوہ ہوں‘ میرے شوہر کا نام محمود تھا‘ ابھی اس کچھ زیادہ ہی وقت نہیں گزرا تھا وہ مجھے روتا سسکتا ہوا چھوڑ کر اللہ کے پاس چلا گیا اور اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اب میں اپنے بچوں کو سنبھالوں اپنی عزت کو سنبھالوں یا اپنے سسرال کے کام کو سنبھالوں۔ میں نے انجان بن کر کہا عزت سے مراد کیا؟ مجھے دیکھ کر اس نے آنکھیں جھکا لیں اس کے آنسو بہہ گئے میں نے اسے میں اپنی بڑھاپے کی آواز کے ساتھ اور بوڑھی کیفیت کے ساتھ کہا بیٹی میں نے زندگی گزاری ہے میرے بھی تجربے ہیں۔ کیا پتہ میں تجھے کوئی ایسا تجربہ دے جاؤں جس تجربے سے تیری حفاظت ہو اورتیرا کام بن جائے۔بیوہ کی کہانی اسی کی زبانی:  میں نے اسے اعتماد میں لیا اس کو بھروسہ دیا‘جب اس کو اعتماد اور بھروسہ میں لیا تو وہ کہنے لگی دراصل میرا چھوٹا دیور مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہےاس کی نظر مجھ پر پہلے دن سے تھی‘ جب میرا شوہر زندہ تھا‘ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا‘ بول بھی نہیں سکتا تھا میری طرف اس کے ہاتھ قدم بڑھ بھی نہیں سکتےتھے لیکن اس کی نظروں کی حوس سے مجھے احساس تھا کہ اس کی نظر مجھ پر ہے لیکن میرے شوہر کے مرنے کے بعد تو اس نے انتہا کردی ہے اور وہ اپنی شیطانیت پر پورا اتر آیا ہروقت تنہائی کی تلاش میں رہتا ہے گھر کے کسی حصے میں تنہا جاؤں تو فورا پہنچ جاتا ہے مجھے نوچنے کی کوشش کرتا ہے‘ کئی باراس نےمجھے پکڑا بھی ہے اور ایک مرتبہ گھسیٹا بھی ہے لیکن میری چیخیں سن کر اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ اب میں تنہائیوں میں بیٹھ کر روتی ہوں نماز اور سجدوں میں روتی ہوں اور مسلسل آیۃ الکرسی پڑھتی ہوں اور اس کے شر سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں بس میرا یہ غم ہے‘ پھر یہ غم اپنے دوپٹے سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگی اماں!کیا تم اس غم میں میرا ساتھ دے سکو گی کیا تمہارے اندر احساس ہے۔ یہ میرا غم کیا تمہارے دل میں احساس ہے کیا میں اس غم سے نکل سکوں گی۔ اماں تم دعا نہیں کرتی کہ میں ا پنے شوہر کے پاس پہنچ جاؤں۔ میرے بوڑھے بوڑھے ہاتھوں کو چومنے لگی اور کہنے لگے کتنے عرصہ کے بعد کوئی آیا ہے جس نے میرا غم سنا ہے‘  میرا تو غم سننے والا ہی کوئی نہیں‘ مجھے تو غمزدہ کرنے والے سارے ہیں۔ اے کاش! میں پیدا ہی نہ ہوتی میری ماں نے مجھےپلکوں کے نیچے سجایا میرے باپ نے مجھے پانی چھاؤں میں پالا اور دل کی روشنی اور دل کی کیفیتوں میں میری تربیت ہوئی میں ایک اونچے گھرانے کی بیٹی ہوں انہوں نے بہت عرصہ سوچ سمجھ کر میرا نکاح کیا۔ میرا شوہر میرا بہت اچھا تھا وہ سسرال کے اکسانے میں بھی میرے ساتھ انصاف کرتا تھا کبھی اس نے میرے ساتھ تلخی نہیں کی۔ لیکن اچانک وہ مجھ سے دور ہوگیا بس زندگی میں ایک دفعہ میں قبرستان میں گئی ہوں بڑوں نے کہا تھا عورتوں کا قبرستان میں جانا اچھا نہیں۔ میرے جی میں ہے کہ میں اس کی قبر کے ساتھ لپٹ جاؤں۔ میں صرف ایک دفعہ قبرستان میں گئی تھی اور گھنٹوں اس کی قبر سے لپٹ کر روئی تھی پھر مجھے احساس ہوا تھا جس طرح میں زندگی میں جیتے جاگتے محمود سے لپٹ کر بعض اوقات پیار کرتی تھی‘ روتی تھی اور کبھی کبھی اپنے دکھڑے اور شکوے بھی سنا لیتی تھی لیکن مجھے رب کی شریعت کاپر عمل کرنا اچھا لگتا ہے اس کے بعد میں قبرستان نہیں گئی۔ اب میرے غم اور بھی ہوں گے لیکن سب سے زیادہ غم عزت کا غم ہے میں اپنی عزت کی حفاظت چاہتی ہوں میں نے عزت کا تحفظ کرنا ہے۔ کیا اس میں میرا کوئی ساتھ دے سکتا ہے میں نے اسے تسلی دی اسے اپنے سینے سے لگایا اپنے ڈوپٹے سے اس کے آنسو پونچھے۔سورۂ والعصر کا عمل اور اس کے کرشمات: میں نے کہاں ہاں میں تیرا ساتھ دے سکتی ہوں ایسا کر چودھویں کی رات ہو چودھویں کے چاند کو دیکھتے ہوئے لیٹے لیٹے یا بیٹھے بیٹھے کرلے اس کو دیکھتے ہوئے صرف اور صرف سورۂ والعصر پڑھ۔جتنا مرضی کوئی تعداد نہیں۔ جی چاہے تو پڑھتے پڑھتے سو جا۔ جب بھی چودھویں کی رات ہو یہی عمل کرنا ہے سورۂ والعصر پڑھنی ہے اس کی کوئی تعداد نہیں‘تیرا کام ہوجائے گا۔ اس نے مجھے کھانے کی کچھ چیزیں دیں میں لے کر واپس آگیا۔ اور پھر میں وہی فوقانی ثانی تھا میں اسی عمل بتا کر اس کیلئے دعا کرکے چلا گیا۔ میں فوقتاً فوقتاً اس کے گھر جاتا میں محسوس کرتا کہ اس کے اندر ایک تسلی تھی اس کے اندرایک اعتماد تھا وہ سارا دن آیۃ الکرسی پڑھتی ‘ اپنے آنچل کو سمیٹ سمیٹ کر رہتی تھی اس کے چھوٹے دیور کا شیطانی خیال ابھی تک مکمل ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ ہروقت شیطانی حوس میں رہتا تھا لیکن جو پہلے اس کے اندر بے چینی تھی اب نہیں تھی جو پہلے اس کے اندر پریشانی کیفیت تھی نامعلوم کیا ہوگا؟ ہرپل ہرسانس اس کے اندر ایک بے اطمینانی وہ سارا بے اطمیانی اس کے اندر سے ختم ہوگئی اب وہ اطمینان کی کیفیت کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کا سارا اطمینان اور اسی درد کی کیفیت کے ساتھ رہتی تھی آخر چودھویں کاچاند آیا اور میں خود موجود تھا اور میں نے بھی ا س کی طرف سے چودھویں کے چاند کو دیکھ کر سورۂ والعصر پڑھی۔وظیفہ ایسے کیا میں خود حیران رہ گیا: مگر اصل تو اس نےپڑھی اس نے چاند کو دیکھتے ہوئے جس غم، جس کڑھن، جس بے چینی ‘ جس کیفیت کے ساتھ سورۂ والعصر پڑھی وہ وظیفہ پڑھا میں خود حیران ہوگیا اور وہ پڑھتے پڑھتے بہت دیر حتیٰ کہ کئی گھنٹے پڑھتے اور سو گئی اور اس کی معصومیت اور شرافت نے  مجھےبہت متاثر کیا میں نے اپنی نظروں کو ہٹایا اور اس کیلئے دعائیں کرتے ہوئے واپس آگیا۔آخر اس کی دیور سے جان چھوٹ گئی: ایک دفعہ کے عمل سے بہت اثر ہوا  وہ یہ ہواکہ کچھ ہی دنوں کے بعداس کے چھوٹے دیور کی ایک نوکری لگی اور شہر سے بہت دور کئی گھنٹوں کا سفر کرنا پڑا تھا اس کے دل میں محمود کی بیوہ بسی تھی۔ سب گھر والوں نے اصرار بھی کیا اور سختی بھی کی۔اب وہ ہر ہفتے نوکری سے واپس آتا تو اس کا انداز وہ شیطانی اور طوفانی نہیں تھا بلکہ اب اس کاانداز صرف یہی تھا کہ بس مجھے صبر کرنا‘ یہ میرے بھائی کی عزت ہے اور مجھے اس عزت کو تار تار نہیں کرنا مجھے اس عزت کو چھونا نہیں۔ وہ مستقل یہی سوچتا تھا اس کی سوچیں بدل گئیں اس کی کیفیتیں بدل گئیں اور وہ خود بہت بدل گیا۔ اسی کیفیت میں دن رات گزرتے گئے دوسرا چودھویں کا چاند آیا وہ پہلے سے تیار تھی اس نے چودھویں کے چاند کو خوب جی بھر سورۂ والعصر پڑھی وہ چاند کو دیکھتی تھی اس کی آنکھیں تھک جاتی وہ ٹھہرتی دوبارہ چاند کو دیکھتی اور پھر والعصر پڑھتی تھی۔ ایک طرف اس کی شرفت‘ اس کی جوانی جذبات اور ایک طرف محمود کی جدائی اور ایک طرف اس کو آنچل کا خیال اور میری ردہ تار تار نہ ہو وہ پڑھتے پڑھتے آخر پھر سوگئی اس کے چہرے کی حیا اور شرافت دیکھتے ہوئے مجھے رشک کیا پھر میں واپس گھر لوٹ آیا۔ بس اس نے کوئی پانچ چھ مہینے ہی اس نے عمل کیا تھا پانچ مہینے میں اس کا دیور کو بیرون ملک نوکری ملی اور چلا اور پتہ چلا کہ سات سال تک وہ وہیں رہے گا۔شوہر‘ عزت‘ دولت سب ملا:قدرت کا نظام دیکھیںاس سورۂ کے عمل نے اس کے ساتھ ایک انوکھا نظام چلایا ایک رشتہ آیا اور ایک نہایت کریم مزاج شخص تھا اور رشتہ چاہا اور بچوں کی ذمہ داری قبول کی اور اس کے والدین نے اس کا رشتہ وہاں کردیا اور اس نے محمود سے بھی زیادہ اس کو خلوص‘ چاہت پیار اور محبت دی۔ آج وہ اپنے گھر میں خوش ہے بعض اوقات اس گھر میں جاتا ہوں ایک دفعہ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ میں پھر اس بوڑھی بھکارن فقیرنی کا روپ دھارا اور اس کے گھر کے باہر جاکر صدا دی اور صدا یہ دی ہے کہ کوئی بھوکے کو کھلا دے پیاسے کو پلادے‘ کوئی اترا ہوئی کپڑا دے دے‘ ہے کوئی اس کا شوہر اس کا دنیا سے رخصت ہوگیا لیکن رب نے اس کو اس کا بدل دے دیا۔ وہ اندر بیٹھی تھی بڑی ٹھاٹھ میں تھی لیکن اچانک اس کے دل میں خیال آیا یہ تو وہی بوڑھی عورت ہے جس بوڑھی عورت نے مجھے وہ وظیفہ دیا تھا اور میرا ہاتھ تھاما تھا اور مجھے پیار محبت اور اعتماد دیا تھا‘ یہ وہی تو ہے بس یہ خیال ا ٓتے ہی اور مجھے بڑے پیار محبت سے پکڑ کر اندر لے گئی بہت قیمتی صوفے پر بٹھایا اور خود نیچے بیٹھ گئی میں نے اسے کہا اوپر بیٹھو کہا نہیں آپ میری محسن ہے آپ نے مجھے ایک عمل دیا تھا اس عمل نے میری عزت بھی بچالی اور مجھےزندگی کا ساتھی مجھے دیا مجھے پیار بھی ملا عزت بھی ملی دولت بھی ملی مجھے خوشیاں بھی ملیں مجھے کامیابیاں بھی ملی وہ بار بار میرے ہاتھ اور پاؤں چومے جارہی تھی میں شرمندہ اور پانی پانی۔ اس نے مجھے بہت کھانے پینے کی چیزیں دیں میں کھایا پیا۔ اس نے مجھے کپڑے دئیے میں نے کپڑے نہیں لیے ظاہر ہے کہ میں پہن نہیں سکتا تھا کیونکہ میں فوقانی ثانی تھا۔ میں نے بوڑھی عورت کے روپ میں بہت پیار دیا اور سر پر ہاتھ پھیرا اور تسلی دی بس خیال کرنا اللہ کی محبت اور نبی ﷺکی محبت کو کبھی نہ چھوڑنا ایسا نہ ہو کہ اس گھر کی نعمتیں اور دولتیں تمہیں اللہ اور اس کے حبیبﷺ کی محبت سے دور نہ کردیں ان کو بھی جانے نہ دینا۔ بس اللہ کے ساتھ محبت کی لو کو لگائے رکھنا دنیا میں کامیابی پاؤ اور آخرت میں بھی کامیابی پاؤ گی۔ اس خاتون نے مجھے رخصت کیا لیکن روتی آنکھوں کے ساتھ اور ایک وعدہ لیا آپ کبھی کبھی میرے پاس ضرور آیا کریں گی اور میں نے وعدہ کیا ہاں میں ضرور آؤں گی اب سال میں ایک آدھ بار میں اس بوڑھی عورت کے روپ میں اس کے پاس جاتا ہوں اور بہت خوشیوں میں ہے اس کے بیٹے ہیں اس کی اولاد ہیں‘ اس کا رزق ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس کو سب کچھ جو ملا ہے اپنی عزت کے تحفظ کی فکر میں ملا ہے‘ اس نے عزت کے تحفظ کا فکر کیا وہ پانی کی رو میں بہہ نہیں گئی وہ جذبات کی رو میں بہہ نہیں گئی اس نے سب کچھ گنوایا عزت اپنی کو نہیں گنوایا اس کے صلے میں اللہ جل شانہ نے مجھ سے ملوایا اس کے صلے میں اللہ جل شانہ نے اسے سورۂ عصر دی اور اسکے صلے میں اللہ جل شانہ نے اتنا عظیم مقام دیا اور اپنے شوہر محمود کا بدل دیا اور محمود کا ایسا بدل دیا اب وہ کبھی کبھی محمود کو یاد کرتی ہے اور اس کیلئے مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے دعائیں کرتی ہے اس کے دل میں کبھی کبھی محمود کیلئے پیار آتا ہے آنسو آتے ہیں لیکن دوسرے شوہر نے اسے اتنا پیار دیا ہے کہ محمود کی کمی اس کے اندر اب محسوس ہی نہیں ہوتی اور وہ زندگی کے دن رات کی خوشیوں میں اب وہ ہے اس کے دن رات کی خوشیاں ہیں وہ اسی خوشیوں میں مطمئن ہیں۔

Ubqari Magazine Rated 4.5 / 5 based on 005 reviews.